احمد جلیل ۔۔۔ چاند ، سورج ، ستارے دیکھتے ہیں

چاند ، سورج ، ستارے دیکھتے ہیں
آ کے تم کو وہ سارے دیکھتے ہیں

دیکھتے ہیں وہ تم کو بت بن کر
جو بھی جلوے تمہارے دیکھتے ہیں

تم بھی پڑھ لو نوشتۂ دیوار
ہم تو کب سے اشارے دیکھتے ہیں

ہر طرف لاشے ، سوختہ خیمے
جا بجا غم کے مارے دیکھتے ہیں

ہر طرف حسن ہے جلیل اُس کا
ہر سو اس کے نظارے دیکھتے ہیں

اب بھی قدموں پہ ہم کھڑے ہیں جلیل
ہم کو دشمن ہمارے دیکھتے ہیں

Related posts

Leave a Comment